جیسے ساری خدائی حاصل ہے
مجھ کو تم تک رسائی حاصل ہے
اب میں نبضِ جہاں چلاتا ہوں
مجھ کو تیری کلائی حاصل ہے
یوں تو نفرت ہے چار سو میرے
بس محبت کی پائی حاصل ہے
مجھ کو درکار تھی محبت جو
سن لو مجھ کو وہ بھائی حاصل ہے
خرچ کرتا ہوں میں کھلے دل سے
جو ذرا سی کمائی حاصل ہے
